نئی دہلی8اکتوبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) روس کے ساتھ ایس 400 سودے کو لے کر امریکی پابندی کے خوف کے درمیان فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے اتوار کو کہا کہ بھارت آزاد پالیسی پر چلتا ہے اور وہ روس سے کامیو ہیلی کاپٹر اور دیگر ہتھیار حاصل کرنے کو پسند کرتا ہے۔ بھارت نے ایس ۔400 ٹرائمف ہوائی دفاعی نظام خریدنے کے لئے گزشتہ دنوں روس کے ساتھ اربوں ڈالر کا سودا کیا تھا۔ اس کے باعث امریکی پابندی کا ڈر ہے۔ اس قانون کا مقصد روس، ایران اور شمالی کوریا کا مقابلہ کرنا ہے۔نئی دہلی اور ماسکو نے امریکہ کی اس انتباہ کے باوجود یہ سودا کیا کہ ان کی توجہ اس ملک کے خلاف تادیبی پابندیاں لگانے پر ہوگی جو روس کے ساتھ اہم تجارتی سودا کرے گا۔روس کی چھ روزہ دورے سے ہفتہ کی رات واپس جنرل راوت نے روسی فوجی حکام کے ساتھ دو طرفہ تعاون بڑھانے کے عنوان پر بات چیت کی۔انہوں نے کہا کہ روسی ہندوستانی فوج اور مسلح فورسز کے ساتھ ہاتھ ملا کر آگے بڑھنے کے لئے انتہائی خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری مضبوط فوج ہیں اور ہماری اسٹریٹجک فکر کے عمل کی بنیاد پر جو ہمارے لئے صحیح ہے، اس کے حق میں ہم کھڑے رہنے کے قابل ہیں۔فوج کے سربراہ یہاں جنرل کے وی کرشن راؤ میموری لیکچر میں بول رہے تھے۔روس کے دورے کے تناظر میں جنرل راوت نے ایک روسی بحریہ کے افسر کی طرف سے پوچھا گیا ایک سوال یاد کیا کہ ہندوستان کا جھکاؤ امریکہ کی طرف لگتا ہے جس نے روس پر پابندیاں لگائی ہیں اور امریکہ نے روس سے سودا کرنے پر بھارت پر پابندیاں لگانے کی دھمکی بھی دی ہے۔اس پر راوت نے اپنا جواب کے حوالہ دیا اور کہا کہ ہاں ہمیں احساس ہے کہ ہم پر پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں لیکن ہم آزاد پالیسی پر چلتے ہیں۔راوت نے امریکہ کے ساتھ بھارت کے بڑھتے تعلقات پر روس کی تشویش یہ کہتے ہوئے دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ یقین ر کھیں کہ جب ہم کچھ ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لئے امریکہ کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہوتے ہیں تو ہم آزاد پالیسی پر چلتے ہیں۔